Pages

Tuesday, April 19, 2011

Urdu Short Story Tariki By M.Mubin




افسانہ تاریکی از:۔ ایم مبین

راستے میں رگھو ویر مل گیا تھا ۔

رگھو ویر کو دیکھ کر وہ پہچان ہی نہیں سکے ۔ وہ اتنا بدل گیا تھا۔ جب وہ ان کے ساتھ کام کرتا تھا تو دبلا پتلا ہوا کرتا تھا۔ جسم پر ٹھیک ڈھنگ کے کپڑے بھی نہیں ہوتے تھے۔

لیکن اسوقت اس کے جسم پر کافی قیمتی کپڑے تھے۔ اور جسم کے حجم میں کافی اضافہ ہو گیا تھا۔

انھوں نے ہی اسے آواز دی ۔

" ارے رگھوویر ! "

" کون .... ارے شندے صاحب ! "رگھوویر اُنھیں دیکھ کر حیرت میں پڑگیا ۔

" یہ آپ ہیں ؟ "

" ہاں میں ہی ہوں ۔ " اُن کے چہرے پر ایک پھیکی مسکراہٹ اُبھر آئی ۔

" یہ آپ نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے ؟ " رگھو نے حیرت سے اُنھیں دیکھا ۔

بولا ۔ " آپ کتنے دُبلے ہوگئے ہیں ، آنکھیں اندر دھنس گئی ہیں ۔ کیا آپ بیمار ہیں ؟ "

" دُنیا میں بیکاری سے بڑھ کر اور کیا بیماری ہوسکتی ہے ؟ " اُنھوں نے تاسف سے کہا ۔

" کیا آپ کے کیس کا ابھی تک فیصلہ نہیں ہوسکا ؟ " اس نے حیرت سے پوچھا ۔

" نہیں ، ، اُنھوں نے کہا پھر موضوع بدلنے کے لئے پوچھا ۔ " اور بتاؤ ، کیسے بیت رہی ہے ؟ "

" بھگوان کی دیا ہے شندے صاحب ۔ " رگھو بولا ۔ " ترقی ہوگئی ہے ، ترقی کرکے ہیڈ بن گیا ہوں ۔ بڑے لڑکے کو سوفٹ ویر کروا دیا تھا ، وہ ایک فرم میں لگ گیا ہے ۔چھوٹا ہارڈ ویر کر رہا ہے۔ اس کی اپنی دوکان کھولنے کا اِرادہ ہے ، چھوٹی لڑکی کالج کے آخری سال میں ہے، لال باغ والا کمرہ چھوڑ دیا ، وسئی میں ایک فلیٹ لے لیا ہوں ۔ "

گذشتہ پانچ سالوں کی کہانی رگھو نے چند جملوں میں بیان کردی اور باقی کا اندازہ اُنھوں نے اس کی حالت سے لگالیا ۔

پھر اِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد رگھو نے آخر تیر چلا ہی دیا ۔

" شندے صاحب ! میں آپ کو بار بار سمجھاتا تھا ۔ مانا ہم جہاں کام کرتے ہیں وہاں پیسہ ہی پیسہ ہے ۔ وہاں بیٹھ کر ہم اپنی کُرسی کے ذریعہ بے شمار دولت کماسکتے ہیں ۔لیکن وہ پیسہ ہمیں سکون نہیں دے سکتا ۔ کبھی نہ کبھی تو اس کا انجام برا ہی ہونا ہے ۔ اور ہوا بھی وہی ۔ آپ رشوت لیتے پکڑے گئے اور معطل کردئے گئے ۔ آپ کا کیس ابھی تک چل رہا ہے اور اب آپ خود کہتے ہیں کہ اس کیس میں آپ کا بچنا مشکل ہے ۔ آپ کو رشوت لینے کے جرم میں پانچ ، چھ سال کی قید ہوجائے گی ۔ نوکری سے نکال دئے جانے کے بعد آپ کا گھر ٹوٹ کر بکھر گیا ۔ میں وہ راستے پر نہیں چلا جس پر آپ جاتے تھے ۔ آج بھی اپنے اُصولوں پر قائم ہیں، پہلے تکلیف کے دِن تھے ، آج بھگوان نے راحت دے دی ہے ۔ کاش آپ بھی میری رائے پر چلتے ۔ "

گھر آکر وہ بہت دیر تک رگھو کے بارے میں سوچتے رہے ۔

کیا رگھو کی راہ پر چل کر اُنھیں وہی راحت ملتی جو رگھو کو ملی ہے ؟ ممکن ہے مل جاتی ۔

اُنھوں نے جو راستہ اپنایا تھا اُس وقت اُنھوں نے خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ ان کا انجام ایسا ہوسکتا ہے ۔ کل ہی وہ اپنے وکیل سے مل آئے تھے ۔

وکیل نے فیس کا مطالبہ کیا تھا ۔ جب اُنھوں نے اسے اپنی حالت بتائی تو وہ اُن پرغصہ ہوگیا تھا

" شندے صاحب ! آپ کا کیس آخری اسٹیج پر ہے اور اس اسٹیج پر آپ کو پیسوں کی سخت ضرورت ہے ۔ ہر فیصلہ آپ کو اپنے حق میں کروانا ہے تاکہ آپ باعزت طریقے سے دوبارہ ڈیوٹی پر جوائنٹ ہوجائیں اور آپ پر لگا رشوت لینے کا الزام جھوٹا ثابت ہوجائے ۔ اس کے لئے عدالت کے کلرک ، چپراسی سے جج تک ہر کسی کو پیسہ دے کر فیصلہ آپ کو اپنے حق میں کرنا ہوگا اور آپ کہہ رہے ہیں کہ آپ کے پاس پیسہ نہیں ہے ۔ یاد رکھئے اس وقت آپ کے پاس پیسے کی کمی آپ کو مجرم ثابت کرسکتی ہے۔ آپ کو رشوت لینے کے جرم میں سزا ہوجائے گی اور آپ دوبارہ پھر کبھی نوکری پر جوائن نہیں ہوپائیں گے ۔ "

لیکن وہ اسے کیا بتائیں۔اس وقت وہ پینے کے لے ایک سگریٹ کے محتاج ہیں۔ تو بھلا فیصلہ اپنے حق میں کروانے کے لیی اتناپیسہ کہاں سے لائیں۔

واپس گھر آتے وقت راستہ بھر ان کے دماغ میں وکیل کی باتیں گونجتی رہیں اور آنکھوں کے سامنے جیل کی سلاخیں منڈلاتی رہی ۔ اُس وکیل کو اُنھوں نے گذشتہ پانچ سالوں میں چار پانچ لاکھ روپیہ فیس کے طور پر دیا ہوگا ۔ لیکن وہ اب بھی فیس مانگ رہا ہے اور صاف کہہ رہا ہے اگر اُنھوں نے فیس کا انتظام نہیں کیا تو فیصلہ اُن کے خلاف ہوسکتا ہے ۔

گھر واپس آئے تو بیوی نے ترش لہجے میں پوچھا ۔

" وکیل کے پاس گئے تھے ؟ "

" ہاں ! "

" اس نے کیا کہا ہے ؟ "

" کہہ رہا ہے اگر ہم نے فیس کا انتظام نہیں کیا تو فیصلہ ہمارے حق میں نہیں ہوپائے گا ۔ "

" گھر میں کھانے کے لالے پڑے ہیں ، میں کس طرح گھر چلا رہی ہوں ، میرا حال مجھ کو معلوم ہے ۔ ایسے میں بھلا فیس کا انتظام کہاں سے ہوسکتا ہے ۔ اس کیس سے تو اب طبیعت بیزار ہوگئی ہے ۔ دوٹوک جو بھی فیصلہ ہوجائے تو چھٹی مل جائے گی ۔ رشوت لیتے وقت آپ کو یہ سوچنا چاہےئے تھا کہ اس برے کام کی وجہ سے آپ پر ہمارے گھر پر یہ برا وقت بھی آسکتا ہے ۔ "

بیوی کی باتیں اُنھیں سوئی کی طرح چبھتی محسوس ہوئی ۔

اب بیوی بار بار اُنھیں کوستی ہے کہ اُنھوں نے رشوت کیوں لی ۔ رشوت لینے کا غلط کام کیوں کیا۔ جس کی وجہ سے وہ اِس مصیبت میں پڑے ہیں ۔

لیکن جب وہ اِس کے لئے نئی نئی ساڑیاں ، بچوں کو اچھے اچھے کپڑے ، گھر کے لئے قیمتی سامان لائے تھے اُس وقت بیوی نے نہیں پوچھا کہ آپ کی تنخواہ تو اتنی کم ہے ، ہماری آمدنی کا کوئی ذریعہ بھی نہیں ہے پھر یہ اتنا قیمتی سامان اور اِس کے لئے اتنا پیسہ کہاں سے آتا ہے ؟ جب لوگ گھر پر ان سے ملنے کے لئے آتے تھے تو وہ ان کی چائے پانی اور خوب خاطر مدارات کرتی تھی ۔ کبھی اس نے انھیں اس بات کے لئے نہیں ٹوکا کہ یہ لوگ ان سے ملنے گھر پر کیوں آتے ہیں ۔ آفس کا کام ہے تو آفس میں کیوں نہیں ملتے ؟

بڑی بڑی رقمیں جب وہ بیوی کے پاس رکھنے کے لئے دیتے تھے تو بیوی نے کبھی نہیں پوچھا تھا کہ اِتنی بڑی رقم کہاں سے آئی ؟ اور اب بات بات پر اُنھیں اِس بات کے لئے طعنہ دیتی ہے ۔ شاید اس وقت وہ اُنھیں ایک بار بھی ٹوک دیتی تو جس راستے پر وہ چل رہے تھے اس سے واپس مڑنے کے بارے میں سوچتے ۔

پانچ سال میں وہ کتنی بدل گئی تھی ۔

صرف بیوی کو کیوں دوش دیں ؟ گھر کا ہر فرد بدل گیا تھا ۔

تینوں بچے بھی اب اُنھیں خاطر میں نہیں لاتے تھے ۔

جب انھیں رشوت لیتے گرفتار کیا گیا ہے اور سروس سے معطل کردیا تھا ، اُس وقت بڑے لڑکے نے ایس ۔ ایس ۔ سی پاس کیا تھا ۔ وہ پڑھنے لکھنے میں بہت ہوشیار تھا ۔ اسے وہ انجینئر بنانا چاہتے تھے اور اس کے لئے اُنھوں نے پورا انتظام کرلیا تھا ۔ ایک بڑے کالج کی پوری فیس اُن کے پاس تےّار تھی ۔

مگر وہ گرفتار کرلئے گئے اور حوالات جانے سے بچنے کے لئے اُنھیں پولس کو وہ ساری رقم دینی پڑی ۔ رقم دینے کا صرف یہ فائدہ ہوا کہ ان کے خلاف آگے اور کوئی انکوائری نہیں ہوسکی ۔ ورنہ ان کی ہر چیز کی انکوائری کا آرڈر تھا ۔

لڑکا انجینئرنگ کالج نہیں جاسکا ، اُس نے گیارہویں میں داخلہ لے لیا ۔ لیکن چھ مہینے کے بعد ہی ایسے حالات پیدا ہوگئے کہ اسے کالج چھوڑنا پڑا اور گھر چلانے کے لئے مجبوراً وہ چھوٹے موٹے کام کرنے لگا ۔ چھوٹا لڑکا دسویں میں فیل ہوگیا ۔ اس کی وجہ سے وہ آگے تعلیم جاری نہیں رکھ سکا ، نہ کوئی کام کرسکا ۔ آوارہ لڑکوں کی صحبت میں پڑگیا ۔ اُس کے بارے میں اُنھیں پتا چلا کہ وہ غلط دھندے بھی کرنے لگا ہے ۔ کئی بار اُسے پولس پکڑ کر لے گئی ۔ لیکن اُسے چھڑانے کے لئے اُنھیں پولس اسٹیشن جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی وہ خود ہی چھوٹ کر اور سارے معاملات کو نپٹا کر آگیا یا وہ جن لوگوں کے ساتھ رہتا تھا اُنھوں نے ہی اُسے رِہا کرالیا ۔

چھوٹی لڑکی کا دِل بھی اسکول کی پڑھائی میں نہیں لگتا تھا ۔

اُس نے پڑھائی چھوڑ دی اور سلائی سیکھنے لگی ۔ اِس کے بعد وہ چھوٹے موٹے کام کرنے لگی ۔

پھر اس کے بعد اُنھیں پتا چلا کہ وہ آوارہ لڑکوں کے ساتھ بدنام جگہوں پر گھومتی ہے ، رات دیر سے گھر واپس آنے لگی تو ایک بار اُنھوں نے اُسے ٹوکا جس پر وہ اُن سے جھگڑا کرنے لگی ۔

" میں کام کرنے کے لئے گھر سے باہر جاتی ہوں تاکہ دو پیسے ملے تو گھر چل سکے ۔ آپ کی طرح گھر میں بیٹھی نہیں رہتی ہوں ۔ " ماں بھی لڑکی کی طرف داری کرنے لگی۔

" خود تو کوئی کام دھندا نہیں کرتے ، دِن بھر گھر میں بیٹھے رہتے ہو ، ہم گھر چلانے کے لئے کوئی چھوٹا موٹا دھندہ کرتے ہیں تو ہمارے پیچھے پڑجاتے ہو ۔ "

ماں بیٹی کی طرف داری کررہی تھی ۔ اس کی وجہ وہ جانتے تھے ۔ کیونکہ وہ بھی بیٹی کے رنگ میں بہت پہلے ہی رنگ چکی تھی ۔

اُن کے معطّل ہونے کے ایک سال بعد ہی وہ چھوٹے موٹے کام کرنے کے لئے گھر سے باہر جانے لگی تھی ۔

کچھ دِنوں کے بعد ہی اُنھیں رپورٹ ملنے لگی تھی کہ وہ کام کی آڑ میں آوارہ گردی کرتی ہے ۔

ایک دوبار اِس بات پر اُن کا جھگڑا بھی ہوا تھا ۔ اُس کا جواب تھا ۔

" ٹھیک ہے ، میں گھر میں رہتی ہوں ، تم جاؤ کوئی کام کرو ۔ کچھ کما کر لاکر دو اور پہلے کی طرح گھر کا خرچ چلاؤ ۔ " یہ ایسا جواب تھا جس کو سن کر وہ بے حس ہوگئے ۔ وہ کام کرنے کے لئے گھر سے باہر جائیں یہ ٹھیک ہے ۔ لیکن وہ کیا کام کریں ؟

آدھی زندگی سرکاری نوکری کرتے گذری تھی ۔ اب وہ دُوسرا کیا کام کرسکتے تھے ، کسی دوکان پر سیلس مین کا کام کرسکتے تھے نہ کسی پرائیویٹ آفس میں کلرک کا ۔ ایک ادھیڑ عمر شخص کو کام پر رکھنے سے بہتر وہ کسی نوجوان کو کام پر رکھنا پسند کرتے تھے ۔

جہاں وہ پہچان لئے جاتے اُن کے ساتھ جانوروں سا سلوک کیا جاتا تھا ۔

" ارے شندے صاحب ! آپ ہمارے یہاں نوکری کریں گے ؟ آپ تو سارے شہر کو نوکر رکھ سکتے ہیں ۔ اِس لئے ہمارے یہاں نوکری کرکے اپنی شان کیوں جھوٹی کرنا چاہتے ہیں ؟ "

مایوسی سے واپس مڑتے تو ایک بازگشت پیچھا کرتی ۔

" ارے ایک حرامی سرکاری آفیسر ہے ، بنا رشوت کے کوئی کام نہیں کرتا تھا ۔ رشوت لیتے ہوئے پکڑا گیا ، آج کل معطل ہے ۔ بہت لوگوں کو ستایا ہے اب اس کے پاپوں کی سزا اُسے مل رہی ہے ۔"

اُنھیں محسوس ہوتا جب وہ کُرسی پر براجمان تھے تو جو لوگ اُن کے ساتھ ادب سے پیش آتے تھے ، اُن کی عزت کرتے تھے ، اُنھیں بار بار سلام کرتے تھے ، آج اُنھیں دیکھ کر نفرت سے منہ پھیر لیتے ہیں۔اگر وہ خود سے اُن سے بات کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ اُن کے زخموں کو کُرید کر اُن پر نمک چھڑکتے ہیں ۔

" کہےئے شندے صاحب ، کیسے ہیں ؟ "رشوت لیتے پکڑے گئے تھے نا ؟نوکری تو جاتی رہی ، سنا ہے جیل کی ہوا کھانی پڑے گی ۔اب کس طرح گذر بسر ہوتی ہے ؟ کیا آج کل آپ کوئی کام تلاش کررہے ہیں ؟۔ اگر مل جائے تو برائے کرم وہاں بھی وہی کام مت کیجئے گا ۔ وہ سرکاری دفتر تھا ، جہاں آپ حاکم تھے ، ہر جگہ آپ حاکم نہیں ہوسکتے ۔ "

اِن طعنوں کی وجہ سے اُنھوں نے کہیں آنا جانا ہی چھوڑ دیا تھا ۔ گھر میں بیٹھے رہتے اکیلے ، کیونکہ گھر میں کوئی نہیں ہوتا تھا ۔ بیوی کام پر چلی جاتی تھی ۔ بڑا لڑکا بھی کام پر ہی جاتا تھا ۔ چھوٹا لڑکا اور لڑکی کہاں آوارہ گردی کرتے رہتے تھے ، اُن کو ٹوکنے کی ان میں ہمت بھی نہیں تھی ۔

ایک زمانہ تھا ، ان کا بڑا دبدبہ تھا ۔

وہ ایسے محکمے میں تھے جہاں پیسہ ہی پیسہ تھا ۔ مجبور، ضرورت مندافراد وہاں پیسہ دے کر ہی اپنا کام کرواتے تھے اور اُنھوں نے بھی پیسہ لے کر کام کرنے کا اپنا اُصول بنالیا تھا ۔

جس سے مطلوبہ رقم مل گئی اس کا کام منٹوں میں ہوگیا جس نے پیسے نہیں دئے سالوں تک اُن کے آفس کے چکّر کاٹتا رہا ۔

وہ غلط صحیح ہر طرح کا کام کرتے تھے ۔ صحیح کام کرنے کی بھی قیمت ادا کرنی پڑتی تھی ۔ غلط کاموں کے لئے تو کچھ زیادہ ہی قیمت دینی پڑتی تھی ۔

گھر میں دولت کی ریل پیل تھی ۔ وہ اپنے ساتھ آفس سے روزانہ ہزاروں روپیہ لاتے تھے ۔

بیوی قیمتی کپڑوں اور زیورات میں لدی جارہی تھی ، گھر میں قیمتی آرائشی سامان آرہا تھا ، بچے اِس چھوٹی سی عمر میں ہزاروں روپیہ روزانہ اُڑا دیتے تھے ۔

کچھ لوگ سمجھاتے بھی تھے کہ وہ جس راستے پر جارہے ہیں وہ غلط ہے ۔ کسی دِن اس کا خاتمہ کسی تاریک غار میں ہوسکتا ہے ۔

لیکن اُنھیں کسی کی پرواہ نہیں تھی ۔

اُنھوں نے اس درمیان اپنا رُسوخ بھی بنالیا تھا ۔ اُنھیں یقین تھا اگر ان کے ہاتھوں سے کوئی لغزش ہوجائے تو وہ لوگ اُنھیں بچالیں گے ۔

لیکن اُنھیں کوئی بھی نہیں بچا سکا ۔

ایک سرپھرے سے اُنھوں نے کام کے لئے رشوت مانگی ، اُس نے انکار کیا تو اُسے اتنا مجبور کردیا کہ وہ رشوت دینے کے لئے مجبور ہوگیا ۔ رشوت لے کر اُنھوں نے اس کا کام کیا ۔

لیکن وہ اینٹی کرپشن میں رپورٹ کرچکا تھا ۔

اینٹی کرپشن والے جال بچھا چکے تھے ۔ وہ جال میں پھنس گئے ۔اور رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ۔

فوراً معطل کردئے گئے اور کیس شروع ہوا ۔

اِس کیس کو کمزور کرنے کے لئے اور خود کو دُوسری کاروائیوں سے بچانے کے لئے اُنھوں نے گھر میں جمع سارا پیسہ لگادیا ۔ کل تک وہ لوگوں سے رشوت لیتے تھے ۔

آج وہ خود کو بچانے کے لئے کورشوت دے رہے تھے ۔

اُنھوں نے سب کو خرید لیا ۔

لیکن جس سے اُنھوں نے رشوت لی تھی اور جس نے اُنھیں رشوت دیتے ہوئے پکڑوایا تھا وہ اڑا رہا ۔

پیسہ یا کوئی بھی دباؤ اُسے جھکا نہیں سکا ۔

وہ آج تک اپنی بات پر ڈٹا ہوا تھا جیسے اُس نے اُنھیں برباد کرنے کی ٹھان لی ہو ۔

اور ان پانچ سالوں میں اُس نے اُنھیں پوری طرح برباد کردیا تھا ۔

عزت ، گھر بار ، بیوی بچے ، دولت ، شہرت سب تو لُٹ گئی تھی ۔

نیم جان تن پر بس آخری وار ہونا باقی تھا ۔

فیصلہ اُن کے خلاف جائے اور اُنھیں رشوت لینے کے جرم میں سزا ہوجائے ۔

اور اُن کی دوبارہ نوکری پانے کی آخری اُمید بھی ٹوٹ جائے ۔

جو اُنھوں نے راستہ اپنایا تھا وہ تاریکی بھرا تھا ۔ لیکن وہ اُنھیں روشن محسوس ہوتا تھا ۔ اِس تاریک راستے پر چلتے وہ تاریکی میں گم ہوگئے ۔

اِ س لئے اُن کا خاتمہ بھی اِسی تاریکی میں ہونے والا تھا ۔

Add:-
M.Mubin
303- Classic Plaza, Teen Batti
BHIWANDI – 421 302
Dist. Thane ( Maharashtra)

 
Copyright (c) 2010 Urdu Short Story Tariki By M.Mubin. Design by WPThemes Expert

Blogger Templates and RegistryBooster.